اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔
تحریر: ڈاکٹر شفقت شیرازی
2006 کی ذلت آمیر اسرائیلی شکست کے بعد خطے ميں اسرائیل کی حفاظت اور بچاؤ کے لئے ایک نئی فورس کی تشکیل کی ضرورت تھی۔ جوکہ مقاومت اسلامی کی ابھرتی ہوئی طاقت کا راستہ روکے اور مقاومت اسلامیہ کو کمزور کرے ۔ اور مسئلہ فلسطین سے دنیائے اسلام کی توجہ ہٹائی جائے کیونکہ اس کی وجہ سے سب عرب اور مسلمان مقاومت اسلامی کی حمایت کرتے ہیں۔ جس کے لئے دہشت گرد مسلح تکفیری گروہوں کو خطے کے اندر اتارا گیا جن کے دو اہم اہداف تھے۔
1۔ صیہونی اہداف کی تکمیل میں معاونت
2۔ مقاومت اسلامی کی افواج کو مسلمانوں کے مابین داخلی جنگ میں مصروف رکھنا۔
ان دو بڑے اہداف کے پیش نظرتکفیری دہشت گردوں کو شام و عراق کی سرزمین پر کچھ عرب ممالک کی ملی بھگت سے اتارا گیا اور داخلی جنگ کا آغاز کیا گیا لیکن شام و عراق کی عوام نے اپنی افواج کے ساتھ مل کر ان دہشتگرد گروہوں كه جن میں داعش اورالنصرہ شامل ہیں کو وہ سبق سکھایا کہ ان کے آقاؤں کی بھی چیخیں نکل گئیں۔ اب چونکہ یہ تکفیری دہشت گرد گروہ اپنے منطقی انجام تک پہنچ چکے ہیں ان کی مزید پشت پناہی اور حمایت ان عرب ممالک کو دنیا کے اندر رسوا کررهى ہے۔ کیونکہ جن بھیانک طریقوں سے ان دہشت گردوں نے لوگوں کا قتل عام کیا ہے اس پر تو انسانیت كى جبيں جهکجاتی ہے۔
اب اگلے مرحلے میں سعودیہ اور اس کے اتحادیوں نے تکفيریت کو اہلسنت و الجماعت کا نام دے کر سنی بلاک بنانے کا عزم کیا ہے جس کا مقصد مقاومت اسلامی کہ جسے وہ شیعی بلاک کہتے ہیں ان کے مقابل لاکھڑا کرنا ہے۔ اور اسرائیل مخالف طاقتوں کو ایک نئی جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ اس لئے یمن میں انصاراللہ ، عراق میں حشد شعبی اور شام و لبنان میں حزب اللہ اور فلسطین میں مقاومتی گروہوں کو دہشت گرد قرار ديا گیا ہے۔ ان مقاومتی تحريكون کو کمزور کرنے کے لئے سعودیہ نے امریکی پلاننگ پر عمل کرتے ہوئے 34 ممالک کا نام نہاد اتحاد قائم کیا ہے۔ کیونکہ سعودیہ واتحادی حزب اللہ اور دیگر اسلامی مزاحمتی گروہوں کو داعش اور النصرہ کا درجہ دینا چاہتے ہیں۔ اب امریکہوغرب بهى خطے میں اپنی بنائی ہوئی تكفيرى فورسز کو ختم یا کمزور کررہے ہیں تو اب وہ بیلنس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے ساتھ مقاومتی تحريكون کو بھی اپنا ٹارگٹ بنا رہے ہیں۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نام نہاد سعودی اتحاد میں پاکستان کو کیوں شامل کیا گیا ہے؟ يه تو صاف ظاہر ہے پاکستان کو ان جیسی چیزوں کا بہت اچھا تجربہ ہے جس کی مثال روس کے خلاف افغانستان میں بنائے گئے اتحاد میں دیکھی جا سکتی ہے جس کی سربراہی اس وقت بھی پاکستان کے پاس تھی ۔ کیونکہ سعودی شہزادے پاکستانی صلاحیتوں کے معترف ہیں لہذا اس لئے اب بھی اس اتحاد کی سربراہی کے لئے پاکستان کو پیشکش کی جارہی ہے۔ اب سعودی عرب اس پاکستانی جھوٹے تجربے کو شاید وسیع پیمانے پر نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں پاکستان کو اسرائیل کی سلامتی اور وہابی سوچ کے غلبے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ کیونکہ امریکہ اور سعودیہ پاکستانیوں کی کمزوریوں سے خوب واقف ہیں اور جانتے ہیں کہ یہ لوگ مال و دولت کے لالچ میں بہت کچھ کر گزرتے ہیں ۔ لہذا ایک دفعہ پھر پاکستانی بخشو کی خدمات حاصل کی جارہی ہیں۔
لیکن اب پاکستانی عوام اور ملکی مفادات کے محافظ اداروں اور باشعور سیاست دانوں کو بروقت اس سازش کو درک کرنے اور صحیح فیصلہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ عوامی غفلت اور سیاسی انتشار کے دور میں 1980 کے عشرہ میں غلط اور غير متوازن پالیسیاں بنائی گئیں جس کے نتائج آج پوری قوم بھگت رہی ہیں۔ پاکستان اسلامی ملک ہے اور اسلام کا قلعہ ہے اسے اسلامی ریاست ہی رہنا چاہیے اسے سنی یا شیعہ ریاست نہیں بننا چاہیے۔ پاکستانی فوج نہ سنی فوج اور نہ شیعہ فوج ہے بلکہ یہ پاکستانی فوج ہے اسے فقط پاکستان کی حفاظت کے لئے استعمال کرنا چاہیے خدارا اس عظیم فوج کو کرائے کی فوج نہ بنایا جائے۔
پاکستان انڈیا اور افغانستان کے لبمے بارڈر مسائل میں پہلے ہی الجھا ہوا ہے اسے اپنے ایک محفوظ بارڈر پر مشکلات پیدا نہیں کرنی چاہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ اور آپریشن ضرب عضب کی کامیابی شیعہ سنی وحدت اور مذہبی تعصب کے خاتمے کے بغیر ممکن نہیں۔ اور کوئی غلط فیصلہ مذہبی انتشار اور تعصب میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے اور وحدت اسلامی کی ايک حد تک موجودہ فضا بھی خراب ہو سکتی ہے۔ سعودی نظام تو اپنے منطقی انجام تک پہنچ هي چکا ہے. خدارا پاکستان کو كسى بڑے بحران سے بچایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲